خوف
-
تاریخ: 1395/6/22 ساعت: 5:54
کسی بے نور شب میں کوئی جگنو ، کوئی تارا مری تنہائیوں کا استعارہ آنکھ کی دہلیز پر اترے تو کیا معلوم؟ کتنے درد بانٹے کتنی آنکھوں کو رلائے کتنی پلکوں کو اذیت سے جگائے تو یوں کرنا کہ اس لمحے وہی جگنو وہی تارا مری تنہائیوں کا استعارہ لبوں میں قید کر لینا مجھے اس خوف سے آزاد کر دینا
تلخی
-
تاریخ: 1395/6/22 ساعت: 5:54
محبت تلخ ہوتی ہے مگر اتنی نہیں ہوتی کہ جذبے تلخ ہو جائیں اور ان جذبوں سے وابستہ تعلق تلخ ہو جائے
فیصلہ
-
تاریخ: 1395/6/22 ساعت: 5:54
کبھی ہلکی سے رنجش بھی ہزاروں وسوسے بیدار کرتی ہے کبھی تھوڑی سے تلخی بھی دلوں میں نفرتوں کے بیج بوتی ہے تو ایسے مختصر لمحوں میں پوری زندگی کا فیصلہ کرنا نہ تجھ کو زیب دیتا ہے نہ مجھ کو زیب دیتا ہے
بارش اور تم
-
تاریخ: 1395/6/22 ساعت: 5:54
بارش ہو ، تم یاد نہ آؤ! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بارش میں اور تم میں ایک تعلق ہے بارش سے اور تم سے ایک سا رشتہ ہے میری آنکھوں میں جب غم کی پہلی رِم جِھم برسی تھی سب سے پہلے تم نے اپنے کومل کومل ہونٹوں سے اُس رِم جِھم سے ڈھانپا تھا اور اب بارش ڈھانپتی ہے
التجا
-
تاریخ: 1395/6/22 ساعت: 5:54
زندگی! اس قدر مختصر بھی نہ ہو میرے ہونٹوں پہ جو تشنگی رہ گئی تشنگی ہی رہے
اگر معلوم ہو جاتا
-
تاریخ: 1395/6/22 ساعت: 5:54
اگر معلوم ہو جاتا کہ تنہائی اذیت ناک ہوتی ہے اکیلے ہوں تو ماضی کی سبھی یادیں لباسِ آتشیں پہنے ہتھیلی پر پرانی حسرتوں کا رنگ پھیلائے ہوئے اور پاؤں میں کانٹوں کی کتنی جھانجھریں باندھے نظر کے سامنے جب رقص کرتی ہیں تو آنکھیں خون روتی ہیں اگر معلوم ہو جاتا کہ تنہائی میں اپنے خواب بھی اپنے نہیں ہوتے کسی...
ذرا لب کھول کر دیکھو
-
تاریخ: 1395/6/22 ساعت: 5:54
کوئی اظہار کی صورت نکل آئے تو اچھا ہے وگرنہ ان کہے جذبے ردائے حبس اوڑھے جنبشِ لب کو ترستے ہے رہے تو زندگی کے دشت میں ٹھہرے نہ خود کو کھول پاؤ گے نہ مجھ کو جان پاؤ گے ذرا لب کھول کر دیکھو!