شام خزا ہے زندگی

متن مرتبط با «خوف و رجا» در سایت شام خزا ہے زندگی نوشته شده است

*الفاظ کے پیچوں میں الجھتے ’’ہوئے‘‘ دانا* [ہمارے خطباء اور الفاظ کی نزاکتیں]

  • نیلوبلاگ

    شامِ خزاں ہے زندگی لوحِ احساس پہ تحریر کیے جاتے ہیں    /    حاجتِ خامہ و قرطاس نہیں ہے ہم کو *الفاظ'>الفاظ کے پیچوں میں الجھتے ’’ہوئے‘‘ دانا* [ہمارے خطباء اور الفاظ کی نزاکتیں] عباس ثاقبؔ شامِ خزاں ہے زندگی لوحِ احساس پہ تحریر کیے جاتے ہیں    /    حاجتِ خامہ و قرطاس نہیں ہے ہم کو...

    ادامه مطلب
  • میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھا

  • نیلوبلاگ

    میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھامگر یہ ہجر مرے حوصلے سے بڑھ کر تھاشریکِ سازشِ شب بام و در بھی تھے ورنہہوا کا زور کہاں اِس دِیے سے بڑھ کر تھاسفر میں ہاتھ جھٹکنا ترے لیے نہ سہیمرے لیے تو کسی سان...

    ادامه مطلب
  • بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہم

  • نیلوبلاگ

    بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہمصحراؤں کے سینوں پر گلزاروں جیسے ہمروز اک ٹکڑا لے جاتی ہے آندھی اپنے ساتھگرتی پڑتی مٹی کی دیواروں جیسے ہموحشت کے ماحول میں اپنا انت کسے معلومبے انجام کہانی کے ک...

    ادامه مطلب
  • کہاں تک آنکھ کو ہم مبتلائے خواب رکھیں

  • نیلوبلاگ

    کہاں تک آنکھ کو ہم مبتلائے خواب رکھیںحصارِ دشت میں ہوں، کلفتِ سراب رکھیںہر ایک رُخ سے تم اپنے دکھائی دیتے ہوسو بے رُخی کا مری جان کیا حساب رکھیںیقین ہے کہ پڑھو گے ہمارے لفظ تماماگر کتاب کے آخر میں...

    ادامه مطلب
  • *الفاظ کے پیچوں میں الجھتے ’’ہوئے‘‘ دانا*xa0[ہمارے خطباء اور الفاظ کی نزاکتیں]

  • نیلوبلاگ

    جب سے انسان نے بولنا سیکھا ہے تب سے الفاظ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ الفاظ ضمیر کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ما فی الضمیر کی دبیز تہوں میں دبے ہوئے مفاہیم کو خوبصورت لبادہ پہنا کر مجسم صورت میں مخاطب کے سامنے لے ...

    ادامه مطلب
  • یوں بھی ہوتا ہے مرے شہر کے ایوانوں میں

  • نیلوبلاگ

    یوں بھی ہوتا ہے مرے شہر کے ایوانوں میںہاتھ اٹھتے ہی الجھتے ہیں گریبانوں میںمجھ کو راس آ گئی تقدیر کی بے رحم صلیبنام میرا بھی نکل آیا ہے دیوانوں میںواعظو! کیسے بلاتے ہو خدا کی جانبایک دہشت سی ٹپک ...

    ادامه مطلب
  • لطیفے اور کثیفےxa0 [فکاہیہ]

  • نیلوبلاگ

    لطیفہ، لطف سے ہے جبکہ لطف لطیفے سے نہیں ہے۔ یعنی ہر لطف دینے والی شے کو لطیفہ کہا جاسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر لطیفہ لطف بھی دیتا ہو۔ اس لیے کہ بعض لطیفے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر بذات خود ہنسی نہیں ...

    ادامه مطلب
  • ڈھول دیکھ ڈھول کی تھاپ دیکھ

  • نیلوبلاگ

    قسم تان سین کے برتن خراش راگوں کی!اور قسم امیر خسرو کے طبلے[1] کی!اس ر وسیاہ کو موسیقی کی اتنی ہی شدھ بدھ ہے جتنی ایک ماہر سیاستدان کو سچائی اور ایمانداری کی ہوتی ہے، مگر آلاتِ موسیقی کی کان پڑی آو...

    ادامه مطلب
  • شخصیتِ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا سماجی پہلو

  • نیلوبلاگ

    مرد اور عورت انسانی سماج کی دو اکائیاں ہیں جن کے وجود پر اس سماج کی بقاء موقوف ہے۔ معاشرہ اور سماج جہاں مرد کو اپنی جانب کھینچتا اور اس کے کندھوں پر اپنی طرف سے کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، وہاں ع...

    ادامه مطلب
  • ازدواجِ علیؑ و فاطمہؑ اور شادی سے پہلے کے اقدامات

  • نیلوبلاگ

    شادی، انسانی زندگی کا وہ حسین اور خوبصورت موڑ ہے جہاں انسان ایک الگ تجربے سے گزرتا ہے۔ خوبصورتیوں اور لطافتوں سے بھرا ہوا انسانی زندگی کا یہ حسین موڑ جہاں نئے جوڑے کو ایک خوبصورت بندھن میں باندھتا ہے ...

    ادامه مطلب
  • زندگی! یوں بھی ترے دَر سے اٹھائے گئے ہم

  • نیلوبلاگ

    زندگی! یوں بھی ترے دَر سے اٹھائے گئے ہمایک افسانہ ہوئے اور بُھلائے گئے ہمقصۂ شوق تھے اوروں کو سنائے گئے ہمنغمۂ درد تھے ہر بزم میں گائے گئے ہماپنے اندر کی تپش نے ہمیں بجھنے نہ دیاجل اُٹھے اور بھی ...

    ادامه مطلب
  • خواہشوں کا مول نئیں، جذبات کا بیوپار نئیں

  • نیلوبلاگ

    خواہشوں کا مول نئیں، جذبات کا بیوپار نئیںیہ ہماری جھونپڑی ہے مصر کا بازار نئیںعشق کے آغاز میں حائل تکلف تھا مگراب ہمارے بیچ میں ایسی کوئی دیوار نئیںہجرتوں کا اک تسلسل ہے ہمارے پاؤں میںہر قدم پر اک...

    ادامه مطلب
  • تشنہ لبی جاں تک آ پہنچی بحرِ طلب پایاب ہوا

  • نیلوبلاگ

    تشنہ لبی جاں تک آ پہنچی بحرِ طلب پایاب ہواوقت کے گہرے دریاؤں سے کون بھلا سیراب ہواوہم و گماں کی اس بستی میں فکر و نظر آوارہ ہوئےہستی ایک فسانہ ٹھہری، جیون ایک سراب ہواماضی کے صحرا میں اپنی یادوں ...

    ادامه مطلب
  • تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو!

  • نیلوبلاگ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون 2017 میں پاڑا چنار میں حکومتی بے حسی، فوج کی جانبداری اور نام نہاد مسلمانوں کے خودساختہ اسلام کا شکار ہونے والے، اور پورے ملک میں ٹارگٹ کلنگ کی آگ میں جلائے جانے والے شیعوں کے مظلومیت پر اپنا نوحہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو! تم حیدرؑ حیدرؑ کرتے ہو تم لوگ سقیفہ کے دشمن تم بیعت سے انکاری ہو اک دروازے سے اٹھنے والے شعلوں پر تم روتے ہو تم مظلوموں کے حامی ہو تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو! تم آلِ امیہ کے دشمن تُف تُف ہے تمہارے شجروں پر ان شجروں میں سفیان نہیں جو خون تمہارے جسم میں ہے وہ خون گواہی دیتا ہے تم ہندہ کی اولاد نہیں جب ہندہ کی اولاد نہیں پس کافر ہو تم شیعہ ہ...

    ادامه مطلب
  • مرزا غالبؔ، فیس بک کی ڈُومنیاں اور ہم

  • نیلوبلاگ

    مرزا غالبؔ کا جب تک دیوان نہ چھپا تھا اور دلّی کے کم ہی لوگ اس نابغۂ روزگار کے فن سے واقف تھے، وہ کسی طوائف کے پڑوس میں واقع ایک کتب فروش میر صاحب کی دکان پر بیٹھے رہتے تھے۔ فن کے تو وہ بادشاہ تھے مگر دَھن (ثروت) کے معاملے میں خدائے رزّاق نے انہیں ہمارے ہم مرتبہ ہونے کے شرف سے نواز رکھتا تھا، سو وہ اپنے گھر اور جوئے کے تھڑوں کے بعد اکثر اسی دکان پر پائے جاتے تھے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے ان کے کانوں میں اپنی غزل گنگنائے جانے کی آواز پڑی۔ اس مُدھر آواز نے غالبؔ کے کانوں میں رس گھول دیا، تو انہوں نے ایک طوائف کے منہ سےاپنی غزل سن کر ایک جملہ کہا: ’’جس شاعر کی غزلیں کوٹھے کی طوائفیں گانے لگیں، وہ...

    ادامه مطلب
  • تو ہے تاجر تجھے تبلیغ سے کیا رشتہ ہے؟

  • نیلوبلاگ

    مجالسِ امام حسین علیہ السلام میں منبر پرآنے والے رنگ برنگے ذاکروں اور خطیبوں اور ان کی طرف سے پڑھی جانے والی مجالس کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسے ہی جاہل مقررین کو مخاطب کرتی ہوئی خونِ دل سے لکھی گئی ایک نظم: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ہے تاجر تجھے تبلیغ سے کیا رشتہ ہے تُو نے اس ذکر کی عظمت کو کہاں سمجھا ہے چند سکوں کے عوض دین کو بیچا تو نے ذکر سید کو بنایا ہے تماشا تو نے اشکِ بیمار کو بازار میں بیچا تو نے غم سجاد کو بے کار میں بیچا تو نے چادر ِحضرت زینبؑ کی لگائی بولی تو نے پوشاک سکینہؑ...

    ادامه مطلب
  • ماں بولی دی لاش

  • نیلوبلاگ

    ہجرت، دربدری اور پردیس انسان کی مادری زبان کو قتل کر دیتے ہیں۔ اسی درد کو بیان کرتی ہوئی میری ایک تازہ پنجابی نظم، احباب کی خدمت میں: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں بولی دی لاش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہجرت دے طوفان ءِچ اپنڑے اُڈدے پُٹدے لفظ نپینداں تہذیباں دی سُولی اُتے ٹنگیاں ہوئیاں لاشاں تک کے اکھیاں وچوں اَتھروں ڈھاندے اِنہاں لاشاں دے وچ اَپنڑی ماں بولی دی لاش وی دِسدی میں اس لاش نوں موہڈے چا کے ہِدے ہُدے پھردا رہنداں مینڈے ہانڑ دے سارے بندے جس ویلے وی گل کریندے ماں بولی دے مِٹھے مِٹھے لہجے دا قرآن سنڑیندے میں ہِک گونگا شاعر بنڑ کے واری واری ہر بندے دے ہَلدے جُلد...

    ادامه مطلب
  • خوف

  • نیلوبلاگ

    کسی بے نور شب میں کوئی جگنو ، کوئی تارا مری تنہائیوں کا استعارہ آنکھ کی دہلیز پر اترے تو کیا معلوم؟ کتنے درد بانٹے کتنی آنکھوں کو رلائے کتنی پلکوں کو اذیت سے جگائے تو یوں کرنا کہ اس لمحے وہی جگنو وہی تارا مری تنہائیوں کا استعارہ لبوں میں قید کر لینا مجھے اس خوف سے آزاد کر دینا...

    ادامه مطلب
  • بارش اور تم

  • نیلوبلاگ

    بارش ہو ، تم یاد نہ آؤ! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بارش میں اور تم میں ایک تعلق ہے بارش سے اور تم سے ایک سا رشتہ ہے میری آنکھوں میں جب غم کی پہلی رِم جِھم برسی تھی سب سے پہلے تم نے اپنے کومل کومل ہونٹوں سے اُس رِم جِھم سے ڈھانپا تھا اور اب بارش ڈھانپتی ہے...

    ادامه مطلب
  • اگر معلوم ہو جاتا

  • نیلوبلاگ

    اگر معلوم ہو جاتا کہ تنہائی اذیت ناک ہوتی ہے اکیلے ہوں تو ماضی کی سبھی یادیں لباسِ آتشیں پہنے ہتھیلی پر پرانی حسرتوں کا رنگ پھیلائے ہوئے اور پاؤں میں کانٹوں کی کتنی جھانجھریں باندھے نظر کے سامنے جب رقص کرتی ہیں تو آنکھیں خون روتی ہیں اگر معلوم ہو جاتا کہ تنہائی میں اپنے خواب بھی اپنے نہیں ہوتے کسی کی دسترس کا ہر گھڑی احساس رہتا ہے ذرا سی سرسراہٹ بھی کئی خود ساختہ خدشے جگاتی ہے در و دیوار سے وحشت ٹپکتی ہے یہ سنّاٹا ڈراتا ہے اگر معلوم ہو جاتا کہ تنہائی کے موسم سخت ہوتے ہیں ہوا ٹھہری رہے تب بھی بلا کا شور ہوتا ہے کئی طوفان اٹھتے ہیں بدن کو بارشوں میں ا...

    ادامه مطلب
  • برچسب‌های مرتبط

    خوفي عليك | خوف و رجا | خوفو خفرع منقرع | خوفي عليك كلمات | خوف القطط من الخيار | خوف بالانجليزي | خوف اسامة المسلم pdf | خوف ياحبك حبيبي بلا | بارش تم اور میں | بارش بادل تم اور میں