خرید بک لینک

شامِ خزاں ہے زندگی

لوحِ احساس پہ تحریر کیے جاتے ہیں    /    حاجتِ خامہ و قرطاس نہیں ہے ہم کو

*الفاظ'>الفاظ کے پیچوں میں الجھتے ’’ہوئے‘‘ دانا* [ہمارے خطباء اور الفاظ کی نزاکتیں]

عباس ثاقبؔ
شامِ خزاں ہے زندگی لوحِ احساس پہ تحریر کیے جاتے ہیں    /    حاجتِ خامہ و قرطاس نہیں ہے ہم کو

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 10 آذر 1404 ساعت: 1:32

میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھامگر یہ ہجر مرے حوصلے سے بڑھ کر تھا شریکِ سازشِ شب بام و در بھی تھے ورنہہوا کا زور کہاں اِس دِیے سے بڑھ کر تھا سفر میں ہاتھ جھٹکنا ترے لیے نہ سہیمرے لیے تو کسی سانادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہمصحراؤں کے سینوں پر گلزاروں جیسے ہم روز اک ٹکڑا لے جاتی ہے آندھی اپنے ساتھگرتی پڑتی مٹی کی دیواروں جیسے ہم وحشت کے ماحول میں اپنا انت کسے معلومبے انجام کہانی کے کادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

کہاں تک آنکھ کو ہم مبتلائے خواب رکھیںحصارِ دشت میں ہوں، کلفتِ سراب رکھیں ہر ایک رُخ سے تم اپنے دکھائی دیتے ہوسو بے رُخی کا مری جان کیا حساب رکھیں یقین ہے کہ پڑھو گے ہمارے لفظ تماماگر کتاب کے آخر میںادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

جب سے انسان نے بولنا سیکھا ہے تب سے الفاظ'>الفاظ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ الفاظ ضمیر کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ما فی الضمیر کی دبیز تہوں میں دبے ہوئے مفاہیم کو خوبصورت لبادہ پہنا کر مجسم صورت میں مخاطب کے سامنے لے ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

یوں بھی ہوتا ہے مرے شہر کے ایوانوں میںہاتھ اٹھتے ہی الجھتے ہیں گریبانوں میں مجھ کو راس آ گئی تقدیر کی بے رحم صلیبنام میرا بھی نکل آیا ہے دیوانوں میں واعظو! کیسے بلاتے ہو خدا کی جانبایک دہشت سی ٹپک ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

لطیفہ، لطف سے ہے جبکہ لطف لطیفے سے نہیں ہے۔ یعنی ہر لطف دینے والی شے کو لطیفہ کہا جاسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر لطیفہ لطف بھی دیتا ہو۔ اس لیے کہ بعض لطیفے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر بذات خود ہنسی نہیں ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

قسم تان سین کے برتن خراش راگوں کی!اور قسم امیر خسرو کے طبلے[1] کی!اس ر وسیاہ کو موسیقی کی اتنی ہی شدھ بدھ ہے جتنی ایک ماہر سیاستدان کو سچائی اور ایمانداری کی ہوتی ہے، مگر آلاتِ موسیقی کی کان پڑی آوادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

مرد اور عورت انسانی سماج کی دو اکائیاں ہیں جن کے وجود پر اس سماج کی بقاء موقوف ہے۔ معاشرہ اور سماج جہاں مرد کو اپنی جانب کھینچتا اور اس کے کندھوں پر اپنی طرف سے کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، وہاں عادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

شادی، انسانی زندگی کا وہ حسین اور خوبصورت موڑ ہے جہاں انسان ایک الگ تجربے سے گزرتا ہے۔ خوبصورتیوں اور لطافتوں سے بھرا ہوا انسانی زندگی کا یہ حسین موڑ جہاں نئے جوڑے کو ایک خوبصورت بندھن میں باندھتا ہے ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

زندگی! یوں بھی ترے دَر سے اٹھائے گئے ہمایک افسانہ ہوئے اور بُھلائے گئے ہم قصۂ شوق تھے اوروں کو سنائے گئے ہمنغمۂ درد تھے ہر بزم میں گائے گئے ہم اپنے اندر کی تپش نے ہمیں بجھنے نہ دیاجل اُٹھے اور بھی ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

خواہشوں کا مول نئیں، جذبات کا بیوپار نئیںیہ ہماری جھونپڑی ہے مصر کا بازار نئیں عشق کے آغاز میں حائل تکلف تھا مگراب ہمارے بیچ میں ایسی کوئی دیوار نئیں ہجرتوں کا اک تسلسل ہے ہمارے پاؤں میںہر قدم پر اکادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

خزاں کی رُت میں بھی ہر ایک شاخ پر کھِلے گُلاب دیکھنابڑا کٹھن سا ہو گیا ہے یار! تیرے بعد خواب دیکھنا کئی دنوں سے اس نے اپنی میز پر یہ کام بھی بڑھا لیاکتاب کھولنا اور اس کے بعد صرف انتساب دیکھنا ہمارےادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

تشنہ لبی جاں تک آ پہنچی بحرِ طلب پایاب ہواوقت کے گہرے دریاؤں سے کون بھلا سیراب ہوا وہم و گماں کی اس بستی میں فکر و نظر آوارہ ہوئےہستی ایک فسانہ ٹھہری، جیون ایک سراب ہوا ماضی کے صحرا میں اپنی یادوں ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون 2017 میں پاڑا چنار میں حکومتی بے حسی، فوج کی جانبداری اور نام نہاد مسلمانوں کے خودساختہ اسلام کا شکار ہونے والے، اور پورے ملک میں ٹارگٹ کلنگ کی آگ میں جلائے جانے والے شیعوں کے مظلومیت پر اپنا نوحہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو! تم حیدرؑ حیدرؑ کرتے ہو تم لوگ سقیفہ کے دشمن تم بیعت سے انکاری ہو اک دروازے سے اٹھنے والے شعلوں پر تم روتے ہو تم مظلوموں کے حامی ہو تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو! تم آلِ امیہ کے دشمن تُف تُف ہے تمہارے شجروں پر ان شجروں میں سفیان نہیں جو خون تمہارے جسم میں ہے وہ خون گواہی دیتا ہے تم ہندہ کی اولاد نہیں جب ہندہ کی اولاد نہیں پس کافر ہو تم شیعہ ہادامه مطلب

برچسب: شیعہ,ہو,کافر, نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: جمعه 27 مرداد 1396 ساعت: 11:59

صفحه بندی