
شامِ خزاں ہے زندگی لوحِ احساس پہ تحریر کیے جاتے ہیں / حاجتِ خامہ و قرطاس نہیں ہے ہم کو *الفاظ'>الفاظ کے پیچوں میں الجھتے ’’ہوئے‘‘ دانا* [ہمارے خطباء اور الفاظ کی نزاکتیں] عباس ثاقبؔ شامِ خزاں ہے زندگی لوحِ احساس پہ تحریر کیے جاتے ہیں / حاجتِ خامہ و قرطاس نہیں ہے ہم کو...
ادامه مطلب
جب سے انسان نے بولنا سیکھا ہے تب سے الفاظ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ الفاظ ضمیر کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ما فی الضمیر کی دبیز تہوں میں دبے ہوئے مفاہیم کو خوبصورت لبادہ پہنا کر مجسم صورت میں مخاطب کے سامنے لے ...
ادامه مطلب
لطیفہ، لطف سے ہے جبکہ لطف لطیفے سے نہیں ہے۔ یعنی ہر لطف دینے والی شے کو لطیفہ کہا جاسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر لطیفہ لطف بھی دیتا ہو۔ اس لیے کہ بعض لطیفے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر بذات خود ہنسی نہیں ...
ادامه مطلب
شادی، انسانی زندگی کا وہ حسین اور خوبصورت موڑ ہے جہاں انسان ایک الگ تجربے سے گزرتا ہے۔ خوبصورتیوں اور لطافتوں سے بھرا ہوا انسانی زندگی کا یہ حسین موڑ جہاں نئے جوڑے کو ایک خوبصورت بندھن میں باندھتا ہے ...
ادامه مطلب
مرزا غالبؔ کا جب تک دیوان نہ چھپا تھا اور دلّی کے کم ہی لوگ اس نابغۂ روزگار کے فن سے واقف تھے، وہ کسی طوائف کے پڑوس میں واقع ایک کتب فروش میر صاحب کی دکان پر بیٹھے رہتے تھے۔ فن کے تو وہ بادشاہ تھے مگر دَھن (ثروت) کے معاملے میں خدائے رزّاق نے انہیں ہمارے ہم مرتبہ ہونے کے شرف سے نواز رکھتا تھا، سو وہ اپنے گھر اور جوئے کے تھڑوں کے بعد اکثر اسی دکان پر پائے جاتے تھے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے ان کے کانوں میں اپنی غزل گنگنائے جانے کی آواز پڑی۔ اس مُدھر آواز نے غالبؔ کے کانوں میں رس گھول دیا، تو انہوں نے ایک طوائف کے منہ سےاپنی غزل سن کر ایک جملہ کہا: ’’جس شاعر کی غزلیں کوٹھے کی طوائفیں گانے لگیں، وہ...
ادامه مطلب
بارش ہو ، تم یاد نہ آؤ! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بارش میں اور تم میں ایک تعلق ہے بارش سے اور تم سے ایک سا رشتہ ہے میری آنکھوں میں جب غم کی پہلی رِم جِھم برسی تھی سب سے پہلے تم نے اپنے کومل کومل ہونٹوں سے اُس رِم جِھم سے ڈھانپا تھا اور اب بارش ڈھانپتی ہے...
ادامه مطلب