خرید بک لینک

لطیفہ، لطف سے ہے جبکہ لطف لطیفے سے نہیں ہے۔ یعنی ہر لطف دینے والی شے کو لطیفہ کہا جاسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر لطیفہ لطف بھی دیتا ہو۔ اس لیے کہ بعض لطیفے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر بذات خود ہنسی نہیں آتی بلکہ لطیفہ گو کو ہنس ہنس کر مارنے اور پھر مار مار کر ہنسنے کو جی چاہتا ہے۔

لطیفے کا انسان کی سماجی زندگی میں کافی اہم مقام رہا ہے،ہے اور رہے گا۔ بقول مشتاق احمد یوسفی ایک دوسرے کے لطیفوں پر نہ ہنسنا تعلقات میں کشیدگی کی علامت ہے۔

انسانی زندگی میں جہاں لطیفوں کی ضرورت ہوتی ہے وہاں کثیفے بھی اپنی پوری آب و تاب سے موجزن رہتے ہیں۔ لطیفے اور کثیفے کے فرق کو پروفیسر لاف گزاف آبادانی سے زیادہ بہتر انداز میں کون بیان کر سکتا ہے۔

پروفیسر لاف گزاف آبادانی اپنے ایک علمی اصول (جو خالصتاً ان کا ذاتی اصول ہے۔) پر سختی سے کاربند رہتے ہیں اور وہ یہ کہ جب کسی دوسرے کی دلیل یا اعتراض سے راہِ فرار ممکن نہ رہے تو مخاطب کو الفاظ کے پیچوں میں الجھا کر یوں غچہ دے کر نکل جاتے ہیں کہ اس کی نظروں میں اس کی اپنی ہی دلیل مشکوک ہو کر رہ جاتی ہے۔

ابھی کل ہی کا واقعہ ہے۔ پروفیسر لاف گزاف آبادانی اپنے چہیتے اور Non چہیتے (اردو تراکیب میں انگریزی کے دُم چھلے لگانا بھی پروفیسر ہی کی بدعتِ حسنہ ہے۔ پروفیسر سابقوں اور لاحقوں کودُم چھلے ہی کے نام سے پکارتے ہیں۔) شاگردوں میں ایسے ہی گھرے بیٹھے تھے جیسے مکھیوں میں چینی والے شہد کی کھلی بوتل۔ ایک ناہنجار نے جان کی امان پائے بغیر سوال داغ دیا: ’’حضور! لطیفے سے کیا مراد ہے؟‘‘

مزاج میں ایک استادانہ غرور لاتےہوئے فرمایا: ’’ارے بھئی، واضح سی بات ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو لطف دے، وہ لطیفہ کہلاتی ہے۔‘‘

ایک کوڑھ مغز شاگرد نے چہرے پر دنیا جہان کی الجھنیں سمیٹ کر وضاحت طلب کی: ’’حضور! اس کی کوئی مثال؟‘‘

مثالیں پیش کرنے کے معاملے میں پروفیسر کا ہاتھ ہمیشہ سے تنگ رہا ہے؛ چاہے ان کی بیان کی گئی بات کی ہزاروں مثالیں ان کے سامنے موجود ہوں پھر بھی وہ انہیں برمحل استعمال نہ کرسکنے کا پیدائشی ملکہ رکھتے ہیں، لہٰذا انہوں نے انتہائی چالاکی سے سوال کو جماعت کے کورٹ میں پھینک دیا: ’’ارے مورکھو! خود بھی تو کچھ سوچا کرو۔ اب یہ کس وید یا اَوِستا میں لکھا ہے کہ ہر سوال کا جواب دینا گُرو ہی پر واجب ہے۔ چلو شباباش، لطیفے کی ایک ایک مثال ہر شخص پیش کرے۔‘‘

اب لطیفے کی مثالوں کی بارش شروع ہو گئی:

ایک بولا: ’’ہر مزاحیہ بات۔‘‘

دوسرے نے بھڑاس نکالی: ’’بیوی۔‘‘

تیسرا شاگرد کالم نگار لگتا تھا: ’’سیاستدانوں کے وعدے۔‘‘

چوتھا کافی Selfish معلوم پڑتا تھا: ’’کیمرہ قریب رکھ کر سیلفی لینا۔‘‘

پانچواں چہروں والی کتاب (Facebook) کا کیڑانکلا: ’’مجھے کیوں نکالا؟!!!‘‘

چھٹے نے تو حد ہی کر دی: ’’بمبئی بم حملوں میں پاکستان کا ملوث ہونا۔‘‘

اب پروفیسر لاف گزاف آبادانی کو ہاتھ اٹھا کر مثالوں کے اس بپھرے ہوئے سمندر کو روکنا پڑا۔ ساتھ ہی انہیں اپنے آپ پر فخر ہونے لگا کہ انہوں نے کیسے کیسے ذہین اور نابغہ بے روزگار شاگردوں کی تربیت کر کے انہیں قوم و ملت کے حوالے کیا ہے۔

جب لطیفے کی مثالوں کا انبار لگ گیا تو پروفیسر نے اس کوڑھ مغز شاگرد کی طرف رُخ کیا جس نے لطیفے کی مثال پوچھی تھی: ’’اب تمہیں معلوم ہوا کہ یہ سب لطیفے کی مثالیں ہیں۔ چونکہ ان میں سے ہر چیز انسان کو لطف دیتی ہے، پس لطیفہ ہوئی۔‘‘

پروفیسر کا ایک شاگرد جو کافی عرصے سے تصوف و عرفان کی سیڑھیاں چڑھنے کی کوششیں کر رہا تھااور بے چارا ہر زینے پر سے پھسل کر چار زینے نیچے آجاتا، پوچھنے لگا: ’’اے گمراہوں کے مرشد! میں ہر دربار پر گیا، ہر درگاہ پر جاروب کشی کی، ہر آستانے پر جبہہ سائی کی، ہر خانقاہ پر تصورِ جاناں کیے بیٹھا کیا، ہر پیر کی پنڈلیوں اور سر کی مالش کی مگر یہ عرفانی گتھی سلجھنے میں نہ آئی۔ آپ رہنمائی فرمائیے کہ لطائف سبعہ سے کیا مراد ہے؟‘‘

اب پروفیسر کی عرفانی رگ پھڑکی اور سگریٹ کا آخری کش لگا کر اسے کسی بے رشوت سائل کی طرح اپنی بارگاہ سے دور پھینکتےہوئے منہ سے دھوئیں کا الوداعی مرغولہ چھوڑا اور آنکھوں پر سونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی احمد فرازی کیفیت طاری کر کے گویا ہوئے: ’’اے میرے بے ہدایتےچیلو! لطائف سبعہ ان سات لطیفوں کو کہتے ہیں جن کا حصول ہر سالک کے لیے ضروری ہوتا ہے۔‘‘

یہاں تک تو پروفیسر نے لطائف سبعہ کی صحیح تعریف بیان کر دی، لیکن جب تشریح کی تو ہر صوفی و عارف کی قبر میں صفِ ماتم بچھ گئی، نیک صوفیوں کی قبور پر غم کے بادل چھا گئے اور گمراہ صوفیوں کے عذاب میں اضافہ ہونے لگا۔ پروفیسر نے ایک ایک کر کے سارے لطائف سبعہ گنوائے اور اپنے علم و فضل کی روشنی میں ان کی تشریح کی:

’’پہلا لطیفہ، لطیفۂ طبع ہوتا ہے۔ اس سے مراد ایسا لطیفہ ہے جو ہر طبعیت کے انسان کو ہنسا دے۔

دوسرا لطیفہ ہوتا ہے لطیفۂ نفس، یعنی وہ لطیفہ جس کے سنانے والے کی نفسیاتی صحت پر شک پڑ جائے۔

تیسرا لطیفہ جسے لطیفۂ قلب کہتے ہیں، وہ ہوتا ہے جو سیدھا انسان کے دل پر جا لگے، جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا: میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔‘‘

پروفیسر کے بحرِ علم میں ایک اور موج نے انگڑائی لی: ’’چوتھا لطیفہ، لطیفۂ روح ہوتا ہے، جس پر ہنس ہنس کر انسان کی روح پرواز کر جائے۔‘‘

اب پانچویں قسم کی وضاحت بیان ہوئی: ’’لطیفۂ سِرّ جس میں انسان اپنے خاندانی اسرار و رموز فاش کر دے۔‘‘

’’چھٹی قسم ہے، لطیفۂ خفی، یعنی جو سامع کو سمجھ نہ آئے۔‘‘

اب پروفیسر نے لطائف سبعہ کے تابوت میں ساتویں اور آخری کیل ٹھونکی: ’’ساتواں لطیفہ، لطیفۂ اخفیٰ ہوتا ہے۔ یہ چھٹی قسم سے چار ہاتھ آگے ہوتا ہے۔ یعنی جو سننے والے کو بالکل بھی سمجھ نہ آئے، جسے ہم عرفِ عام میں نثری نظم یا حکومتی اعداد و شمار کہتے ہیں۔‘‘

لطائف سبعہ کی اس عرفانی تشریح نے شاگردوں کے مجمع پر وہ وجد طاری کر دیا کہ کافی دیر تک خود پروفیسر بھی اس مخمصے کا شکار رہے کہ یہ میں کیا کہہ بیٹھا ہوں۔

ایک گستاخ شاگرد نے متوجہ کیا کہ حضور لطائف سبعہ کی یہ تشریح آپ نے بالکل غلط بیان فرمائی ہے۔ اب جب کہ پروفیسر کے پاس مخاطب کے اعتراض سے راہِ فرار ممکن نہ رہی تو انہوں نے خالص ذاتی اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے گستاخ سائل کو غچہ دیا:

’’دیکھو، مورکھو! میں نے بالکل غلط نہیں کہا۔ میری اس بات کی تائید شیخ سعدیؔ جیسے عظیم شاعر نے بھی کر رکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: لطف کُن لطف کہ بیگانہ شود حلقہ بہ گوش۔ یعنی اتنے لطیفے سناؤ، اتنے لطیفے سناؤ کہ سبیگانے بھی تمہارے غلام بن جائیں۔ اس مصرعے میں ’’لطف کُن لطف‘‘ سے شیخ سعدی کی مراد یہی لطائف سبعہ ہیں۔ یعنی جب بھی کوئی بیگانہ ملے تو اسے اپنانے کے لیے کم از کم سات لطیفے ضرور سناؤ۔‘‘

اس گستاخ شاگرد نے پھر اعتراض کر دیا: ’’حضور والا!لطائف سبعہ اور شیخ سعدی کے مصرعے میں کوئی ربط سمجھ نہیں آ رہا۔‘‘

پروفیسر نے اس کی سات پشتوں اور چودہ نسلوں پر جہالت کی مہر ثبت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ان دونوں باتوں میں وہی ربط ہے جو لطیفے اور کثیفے میں ہوتا ہے۔‘‘

شاگردوں نے الجھتے ہوئے پوچھا: ’’سرکار! لطیفہ تو سن رکھا تھا، یہ کثیفہ کیا ہوتا ہے۔‘‘

پروفیسر نے جواب دیا: ’’جب لطیفے میں کثافت در آئے تو اسے کثیفہ کہتے ہیں۔‘‘

اب تشریح ہوئی:

’’دیکھو مورکھو، جس طرح انسانی معاشرے میں لطیفوں کا اپنا مقام ہے، اسی طرح کثیفوں کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض کثیفے انتہائی لطیف ہوتے ہیں مثلاً جوشؔ کے کثیفے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بعض لطیفے انتہائی کثیف ہوتے ہیں، جیسے مولانا خادم حسین رضوی کے خطبے۔‘‘

پروفیسر لاف گزاف آبادانی نے یہ آخری جملے کہے اور شاگردوں کو ورطہ حیرت میں چھوڑ کر خود سر جھکائے عاجزانہ انداز میں اپنے گھر کو چل دیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[عباس ثاقبؔ]

۲۰ مئی ۲۰۱۸ ْu0601

صبح ۸ بج کر 35 منٹ

قم المقدسہ۔ ایران

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

صفحه بندی