خرید بک لینک

یوں بھی ہوتا ہے مرے شہر کے ایوانوں میں

ہاتھ اٹھتے ہی الجھتے ہیں گریبانوں میں

مجھ کو راس آ گئی تقدیر کی بے رحم صلیب

نام میرا بھی نکل آیا ہے دیوانوں میں

واعظو! کیسے بلاتے ہو خدا کی جانب

ایک دہشت سی ٹپک آئی ہے آذانوں میں

جس قدر زیست نے لکھا ہے مرے ماتھے پر

اس قدر کرب نہ تھا ہجر کے افسانوں میں

یہ جو ترسے ہوئے آئے ہیں تری چوکھٹ پر

ساقیا! اتنی سکت ہے ترے پیمانوں میں؟

دل کو آباد کرو یادِ رُخِ یاراں سے

عشق کا نور اترتا نہیں ویرانوں میں

آ ،مرا ہاتھ پکڑ، مل کے اسے ڈھونڈتے ہیں

ایک انسان جو گُم ہو گیا انسانوں میں

کون دیوے گا اسیروں کو رہائی کی نوید

خواہشیں قید ہوئیں جبر کے زندانوں میں

ثاقباؔ! ہم نے جو کی بادہ کشی سے توبہ

ایک محشر سا بپا ہو گیا مے خانوں میں

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

صفحه بندی