مرد اور عورت انسانی سماج کی دو اکائیاں ہیں جن کے وجود پر اس سماج کی بقاء موقوف ہے۔ معاشرہ اور سماج جہاں مرد کو اپنی جانب کھینچتا اور اس کے کندھوں پر اپنی طرف سے کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، وہاں عورت بھی اس فطری قانون سے مستثنٰی نہیں ہے۔ اگرچہ اکثر انسانی معاشروں پر مردوں کی حکمرانی رہی اور عورت کو معاشرتی سرگرمیوں کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا، لیکن اس کے باوجود بھی انسانی تاریخ کے اوراق ابھی تک ان عبارتوں سے مزین ہیں جن میں عورتوں کے معاشرتی کردار کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد مبارک سے جب انسانی فطرت اپنے الٰہی اورحقیقی راستوں سے، پہلے انبیاء کے زمانوں کی نسبت مکمل طور پر آشنا ہوئی اور فرد کے انفرادی اور اجتماعی کردار کے مجسمے اس کے سامنے پیش ہوئے تو دختر کش معاشرے میں عورت کا کردار بھی نکھر کر سامنے آ گیا۔ جس معاشرے میں عورت باعثِ ننگ و عار تھی، وہاں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جیسی معصوم شخصیت کی آمد نے عورت کو عصمت اور وقار و متانت کا ایسا دیدہ زیب لبادہ پہنا دیا جس پر انسانیت بالخصوص نسوانیت آج بھی نازاں ہے۔ اسلامی تہذیب و تمدن نے دوسرے معاشروں کے برعکس عورت کے انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلؤوں پر زور دیا، اور اس کا بہترین اور کامل بلکہ اکمل نمونہ بنت پیغمبرؐ، سیدۃ نساء العالمین، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کیا۔
کائنات کی یہ عظیم خاتون جہاں بہت سے انفرادی کمالات و فضائل سے مالا مال تھیں، وہاں معاشرت میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتی تھیں۔ تاریخ کی نگاہوں نے اس بے مثل بی بیؑ کی عبادت و ریاضت و مناجات کو بھی دیکھا اور پھر سماج میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے بھی دیکھا۔ کبھی پیغمبر اسلام کے کسی معاشرتی پہلو کے حامل سوال کا ایسا خوبصورت جواب دیا کہ زبانِ رسالتؐ بے ساختہ پکار اٹھی: أَشْهَدُ أَنَّكِ بَضْعَةٌ مِنِّي.([1]) اور کبھی عملی طور پر ایسے نمونے پیش کیے کہ کہیں سخاوت آپ کے حسن سخاوت پر عش عش کر اٹھی اور کہیں شجاعت نے آپ کی شجاعت کے قصیدے پڑھے۔
تنگئ دامنِ قرطاس کے سبب اس مختصر مضمون میں شخصیتِ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے اسی سماجی پہلو کے فقط دو نمونوں سے ہم اپنے لیے درسِ حیات کشید کرنے کی کوشش کریں گے:
کتاب ’’زندگانی حضرت زہرا علیہا السلام (ترجمہ جلد 43 بحار الانوار) ترجمہ روحانی، ص:324 تا 327‘‘ پر مرقوم طویل روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کے نماز کے بعد اپنے اصحاب میں ایسے گھرے بیٹھے تھے جیسے ستاروں میں چاند ۔ ایک فقیر مسجد میں داخل ہوا اور پیغمبر اکرمؐ سے سوال کیا: ’’یا رسول اللہؐ، میں بھوکا ہوں، مجھے سیر کیجیے۔ بے لباس ہوں، ملبوس دیجیے۔ محتاج ہوں، بے نیاز کیجیے۔‘‘ پیغمبر اکرم ؐکے پاس اس کی حاجت پوری کرنے کے لیے کچھ نہ تھا، مگر آپ نے اسے خالی ہاتھ نہ بھیجا بلکہ اس گھر کی طرف رہنمائی فرمادی جس کی دہلیز پر عطا و بخشش جبہہ سائی کرتی ہے۔ بلال اسے دروازۂ زہراءؑ پر لے آئے۔ بی بیؑ نے حسنؑ و حسینؑ کے نیچے بچھانے والا بستر بخشا مگر وہ راضی نہ ہوا۔ پھر بی بیؑ نے اپنی گردن سے وہ گردن بند اتار کر اسے بخش دیا جو فاطمہ بنت حمزہ نے آپؑ کو شادی کے وقت تحفے میں دیا تھا۔ فقیر دعائے خیر دیتا ہوا دوبارہ خدمت رسالتمآبؐ میں پہنچا۔ سوال ہوا: ’’کچھ ملا؟‘‘ جواب دیا: ’’بہت کچھ۔ اب اسے بیچنا چاہتا ہوں۔‘‘ حضرت عمار یاسرؓ محفل میں موجود تھے۔ وہ اٹھے اور قیمت پوچھی۔اعرابی نےکہا کہ اتنی ہو کہ جس سے بھوک، لباس اور حاجت کا قضیہ ختم ہو جائے۔ حضرت عمار یاسرؓ نے بیس دینار، دو سو درہم، ایک یمنی چادر، اپنی سواری کے اونٹ اور پیٹ بھر کھانے کے عوض وہ گردن بند خرید لیا۔ گھر جا کر عمارؓ نے اپنے غلام سہیم کو وہ گردن بند دے کر کہا کہ یہ پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں میری طرف سے ہدیہ لے جاؤ اور تمہیں بھی میں ان کی خدمت میں بطور ہدیہ دیتا ہوں۔ پیغمبر اکرمؐ نے وہ گردن بند اور غلام حضرت زہراءؑ کو بخش دیا۔ جب وہ غلام گردن بند لے کر حضرت زہراءؑ کے پاس پہنچا تو بی بیؑ نے گردن بند لے لیا اور غلام کو آزاد کر دیا۔ غلام خوشی کے مارے ہنس دیا۔ بی بیؑ نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا: مجھے اس گردن بند کی عظمت و برکت پر حیرت ہو رہی ہے۔ یہ گردن بند کتنا بابرکت ہے کہ اس نے ایک بھوکے کو سیر کر دیا، ایک برہنہ کو لباس پہنا دیا اور ایک غلام کو آزاد کر دیا۔‘‘
اس روایت سے درج ذیل سبق آموز نکات کشید ہوتے ہیں:
قَالَ عَلِيٌّ ع اسْتَأْذَنَ أَعْمَى عَلَى فَاطِمَةَ ع فَحَجَبَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لَهَا لِمَ حَجَبْتِيهِ وَ هُوَ لَا يَرَاكِ فَقَالَتْ ع إِنْ لَمْ يَكُنْ يَرَانِي فَإِنِّي أَرَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَشْهَدُ أَنَّكِ بَضْعَةٌ مِنِّی.([3])
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک نابینا شخص نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے اذنِ حضور طلب کیا۔ بی بیؑ نے اس سے باتوں کے وقت اپنے سر پر حجاب اوڑھے رکھا۔ پیغمبر اکرمؐ نے پوچھا: ’’فاطمہ، یہ تو نابینا ہے، پس حجاب اوڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ تو بی بیؑ نے جواب دیا: ’’اگر وہ مجھے نہیں دیکھ رہا تو میں تو اسے دیکھ سکتی ہوں۔‘‘ تو رسالتمآبؐ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو میرے جسم کا ٹکرا ہے۔
انسانی معاشرے کے زوال کے اہم ترین اسباب میں سے ایک، نامحرم مردحضرات اور خواتین کا اختلاط ہے۔ اسلامی معاشرے اسی مشکل کا شکار ہیں۔بالخصوص ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مغربی معاشرے نامحرموں کے اختلاط کے باعث کس قدر درہم برہم ہو گئے ہیں، حتی کہ اب تو اس مسئلے پر ان کے دانشوروں کی چیخیں بھی ان کی تحریروں میں سنائی دیتی ہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے اس عمل سے اسی مشکل کی طرف نہ صرف اشارہ کیا بلکہ بہت ہی خوبصورتی اور تہذیب و نفاست سے اس کا حل بھی پیش کر دیا۔
معاشرے کے مسائل اور ان کے حل پر نظر رکھے بغیر ایسے اقدامات نہیں اٹھائے جا سکتے جو حضرت زہراءؑ کی زندگی حیات طیبہ میں ہمیں نظر آتےہیں۔ یہ اقدامات بی بیؑ کی شخصیت کے سماجی پہلؤوں کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
([1]) بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج 43، ص: 91
([2]) آل عمران: 92
([3]) زندگانى حضرت زهرا عليها السلام ( ترجمه جلد 43 بحار الأنوار) ترجمه روحانى، ص: 398
برچسب:
نویسنده: بهراد دادخواه