خرید بک لینک
آزمانے کی ضد نہیں کرتے

یوں ستانے کی ضد نہیں کرتے

دل پہ کب اختیار ہے اپنا

دل لگانے کی ضد نہیں کرتے

بھول بیٹھے تو یاد رکھو گے

بھول جانے کی ضد نہیں کرتے

چند لمحوں کی روشنی کے لیے

گھر جلانے کی ضد نہیں کرتے

ایک دو پل کی التجا کی ہے

ہم زمانے کی ضد نہیں کرتے

گھر ہو جیسا بھی آخرش گھر ہے

گھر سے جانے کی ضد نہیں کرتے

ہم کہ ہجرت مزاج پنچھی ہیں

آشیانے کی ضد نہیں کرتے

شہر کی سوگوار گلیوں میں

مسکرانے کی ضد نہیں کرتے

بارشیں جب اداس ہوں ثاقبؔ!

گنگنانے کی ضد نہیں کرتے

برچسب: غزل حشمت,غزل شاکری,غزل,غزل البنات,غزل سادات,غزل عراقي,غزل عنایت,غزلان,غزل چت,غزل شاکری قلک, نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 31 شهريور 1395 ساعت: 5:11

صفحه بندی