*الفاظ کے پیچوں میں الجھتے ’’ہوئے‘‘ دانا* [ہمارے خطباء اور الفاظ کی نزاکتیں]
-
تاریخ: 1404/9/10 ساعت: 1:32
شامِ خزاں ہے زندگی لوحِ احساس پہ تحریر کیے جاتے ہیں / حاجتِ خامہ و قرطاس نہیں ہے ہم کو *الفاظ'>الفاظ کے پیچوں میں الجھتے ’’ہوئے‘‘ دانا* [ہمارے خطباء اور الفاظ کی نزاکتیں] عباس ثاقبؔ شامِ خزاں ہے زندگی لوحِ احساس پہ تحریر کیے جاتے ہیں / حاجتِ خامہ و قرطاس نہیں ہے ہم کو
میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھا
-
تاریخ: 1398/8/16 ساعت: 22:51
میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھامگر یہ ہجر مرے حوصلے سے بڑھ کر تھا شریکِ سازشِ شب بام و در بھی تھے ورنہہوا کا زور کہاں اِس دِیے سے بڑھ کر تھا سفر میں ہاتھ جھٹکنا ترے لیے نہ سہیمرے لیے تو کسی سان
بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہم
-
تاریخ: 1398/8/16 ساعت: 22:51
بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہمصحراؤں کے سینوں پر گلزاروں جیسے ہم روز اک ٹکڑا لے جاتی ہے آندھی اپنے ساتھگرتی پڑتی مٹی کی دیواروں جیسے ہم وحشت کے ماحول میں اپنا انت کسے معلومبے انجام کہانی کے ک
کہاں تک آنکھ کو ہم مبتلائے خواب رکھیں
-
تاریخ: 1398/8/16 ساعت: 22:51
کہاں تک آنکھ کو ہم مبتلائے خواب رکھیںحصارِ دشت میں ہوں، کلفتِ سراب رکھیں ہر ایک رُخ سے تم اپنے دکھائی دیتے ہوسو بے رُخی کا مری جان کیا حساب رکھیں یقین ہے کہ پڑھو گے ہمارے لفظ تماماگر کتاب کے آخر میں
*الفاظ کے پیچوں میں الجھتے ’’ہوئے‘‘ دانا*xa0[ہمارے خطباء اور الفاظ کی نزاکتیں]
-
تاریخ: 1398/8/16 ساعت: 22:51
جب سے انسان نے بولنا سیکھا ہے تب سے الفاظ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ الفاظ ضمیر کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ما فی الضمیر کی دبیز تہوں میں دبے ہوئے مفاہیم کو خوبصورت لبادہ پہنا کر مجسم صورت میں مخاطب کے سامنے لے
یوں بھی ہوتا ہے مرے شہر کے ایوانوں میں
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
یوں بھی ہوتا ہے مرے شہر کے ایوانوں میںہاتھ اٹھتے ہی الجھتے ہیں گریبانوں میں مجھ کو راس آ گئی تقدیر کی بے رحم صلیبنام میرا بھی نکل آیا ہے دیوانوں میں واعظو! کیسے بلاتے ہو خدا کی جانبایک دہشت سی ٹپک
لطیفے اور کثیفےxa0 [فکاہیہ]
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
لطیفہ، لطف سے ہے جبکہ لطف لطیفے سے نہیں ہے۔ یعنی ہر لطف دینے والی شے کو لطیفہ کہا جاسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر لطیفہ لطف بھی دیتا ہو۔ اس لیے کہ بعض لطیفے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر بذات خود ہنسی نہیں
ڈھول دیکھ ڈھول کی تھاپ دیکھ
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
قسم تان سین کے برتن خراش راگوں کی!اور قسم امیر خسرو کے طبلے[1] کی!اس ر وسیاہ کو موسیقی کی اتنی ہی شدھ بدھ ہے جتنی ایک ماہر سیاستدان کو سچائی اور ایمانداری کی ہوتی ہے، مگر آلاتِ موسیقی کی کان پڑی آو
شخصیتِ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا سماجی پہلو
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
مرد اور عورت انسانی سماج کی دو اکائیاں ہیں جن کے وجود پر اس سماج کی بقاء موقوف ہے۔ معاشرہ اور سماج جہاں مرد کو اپنی جانب کھینچتا اور اس کے کندھوں پر اپنی طرف سے کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، وہاں ع
ازدواجِ علیؑ و فاطمہؑ اور شادی سے پہلے کے اقدامات
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
شادی، انسانی زندگی کا وہ حسین اور خوبصورت موڑ ہے جہاں انسان ایک الگ تجربے سے گزرتا ہے۔ خوبصورتیوں اور لطافتوں سے بھرا ہوا انسانی زندگی کا یہ حسین موڑ جہاں نئے جوڑے کو ایک خوبصورت بندھن میں باندھتا ہے
زندگی! یوں بھی ترے دَر سے اٹھائے گئے ہم
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
زندگی! یوں بھی ترے دَر سے اٹھائے گئے ہمایک افسانہ ہوئے اور بُھلائے گئے ہم قصۂ شوق تھے اوروں کو سنائے گئے ہمنغمۂ درد تھے ہر بزم میں گائے گئے ہم اپنے اندر کی تپش نے ہمیں بجھنے نہ دیاجل اُٹھے اور بھی
خواہشوں کا مول نئیں، جذبات کا بیوپار نئیں
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
خواہشوں کا مول نئیں، جذبات کا بیوپار نئیںیہ ہماری جھونپڑی ہے مصر کا بازار نئیں عشق کے آغاز میں حائل تکلف تھا مگراب ہمارے بیچ میں ایسی کوئی دیوار نئیں ہجرتوں کا اک تسلسل ہے ہمارے پاؤں میںہر قدم پر اک
خزاں کی رُت میں بھی ہر ایک شاخ پر کھِلے گُلاب دیکھنا
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
خزاں کی رُت میں بھی ہر ایک شاخ پر کھِلے گُلاب دیکھنابڑا کٹھن سا ہو گیا ہے یار! تیرے بعد خواب دیکھنا کئی دنوں سے اس نے اپنی میز پر یہ کام بھی بڑھا لیاکتاب کھولنا اور اس کے بعد صرف انتساب دیکھنا ہمارے
تشنہ لبی جاں تک آ پہنچی بحرِ طلب پایاب ہوا
-
تاریخ: 1398/4/5 ساعت: 21:06
تشنہ لبی جاں تک آ پہنچی بحرِ طلب پایاب ہواوقت کے گہرے دریاؤں سے کون بھلا سیراب ہوا وہم و گماں کی اس بستی میں فکر و نظر آوارہ ہوئےہستی ایک فسانہ ٹھہری، جیون ایک سراب ہوا ماضی کے صحرا میں اپنی یادوں
تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو!
-
تاریخ: 1396/5/27 ساعت: 11:59
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون 2017 میں پاڑا چنار میں حکومتی بے حسی، فوج کی جانبداری اور نام نہاد مسلمانوں کے خودساختہ اسلام کا شکار ہونے والے، اور پورے ملک میں ٹارگٹ کلنگ کی آگ میں جلائے جانے والے شیعوں کے مظلومیت پر اپنا نوحہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو! تم حیدرؑ حیدرؑ کرتے ہو تم لوگ سقیفہ کے...
مرزا غالبؔ، فیس بک کی ڈُومنیاں اور ہم
-
تاریخ: 1396/5/27 ساعت: 11:59
مرزا غالبؔ کا جب تک دیوان نہ چھپا تھا اور دلّی کے کم ہی لوگ اس نابغۂ روزگار کے فن سے واقف تھے، وہ کسی طوائف کے پڑوس میں واقع ایک کتب فروش میر صاحب کی دکان پر بیٹھے رہتے تھے۔ فن کے تو وہ بادشاہ تھے مگر دَھن (ثروت) کے معاملے میں خدائے رزّاق نے انہیں ہمارے ہم مرتبہ ہونے کے شرف سے نواز رکھتا تھا، سو وہ...
تو ہے تاجر تجھے تبلیغ سے کیا رشتہ ہے؟
-
تاریخ: 1396/5/27 ساعت: 11:59
مجالسِ امام حسین علیہ السلام میں منبر پرآنے والے رنگ برنگے ذاکروں اور خطیبوں اور ان کی طرف سے پڑھی جانے والی مجالس کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسے ہی جاہل مقررین کو مخاطب کرتی ہوئی خونِ دل سے لکھی گئی ایک نظم: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
ماں بولی دی لاش
-
تاریخ: 1396/5/27 ساعت: 11:59
ہجرت، دربدری اور پردیس انسان کی مادری زبان کو قتل کر دیتے ہیں۔ اسی درد کو بیان کرتی ہوئی میری ایک تازہ پنجابی نظم، احباب کی خدمت میں: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں بولی دی لاش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہجرت دے طوفان ءِچ اپنڑے اُڈدے پُٹدے لفظ نپینداں تہذیباں دی سُولی اُتے ٹنگیاں...
آمد ہلالِ ماہِ محرم
-
تاریخ: 1395/7/10 ساعت: 17:37
آمد ہلالِ ماہِ محرم بر آسمان با رنگِ خون نوحہء شامِ عزا نوشت گوید : حسینِؑ تشنہ و بی یار و بی وطن یک داستانِ درد لبِ کربلا نوشت (عباس ثاقبؔ) ترجمہ: ماہ محرم کے ہلال نے آسمان پر آ کر خونیں رنگ سے شامِ عزا کا نوحہ لکھا۔ اور کہتا ہے کہ تشنہ لب، بے یار اور بے وطن حسینؑ نے کربلا کی سرزمین پر درد کی ا...
غزل
-
تاریخ: 1395/6/31 ساعت: 5:11
آزمانے کی ضد نہیں کرتے یوں ستانے کی ضد نہیں کرتے دل پہ کب اختیار ہے اپنا دل لگانے کی ضد نہیں کرتے بھول بیٹھے تو یاد رکھو گے بھول جانے کی ضد نہیں کرتے چند لمحوں کی روشنی کے لیے گھر جلانے کی ضد نہیں کرتے ایک دو پل کی التجا کی ہے ہم زمانے کی ضد نہیں کرتے گھر ہو جیسا بھی آخرش گھر ہے گھر سے جانے کی ضد ...