مرزا غالبؔ کا جب تک دیوان نہ چھپا تھا اور دلّی کے کم ہی لوگ اس نابغۂ روزگار کے فن سے واقف تھے، وہ کسی طوائف کے پڑوس میں واقع ایک کتب فروش میر صاحب کی دکان پر بیٹھے رہتے تھے۔ فن کے تو وہ بادشاہ تھے مگر دَھن (ثروت) کے معاملے میں خدائے رزّاق نے انہیں ہمارے ہم مرتبہ ہونے کے شرف سے نواز رکھتا تھا، سو وہ اپنے گھر اور جوئے کے تھڑوں کے بعد اکثر اسی دکان پر پائے جاتے تھے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے ان کے کانوں میں اپنی غزل گنگنائے جانے کی آواز پڑی۔ اس مُدھر آواز نے غالبؔ کے کانوں میں رس گھول دیا، تو انہوں نے ایک طوائف کے منہ سےاپنی غزل سن کر ایک جملہ کہا: ’’جس شاعر کی غزلیں کوٹھے کی طوائفیں گانے لگیں، وہ کبھی نہیں مر سکتا۔‘‘
غالبؔ کی نظر میں شاعری کا ڈومنیوں کی زبان تک پہنچ جانا،شاعر اور شاعری دونوں کے لیے آبِ حیات کا کام کرتا ہے۔
جب سے ہم نے فیس بک کی چوکھٹ پر جبہ سائی کی ہے اور اپنا کلام اپنے فیس بکی سامعین کے ذوق سماعت کی نذر کرنا شروع کیا ہے، ہمیں بھی ایسی ڈومنیوں سے واسطہ پڑنے لگا ہے۔ جیسے ہی کوئی تازہ غزل یا نظم ہم سے صادر ہو جاتی ہے تو ہر شاعر کی طرح سامعین کو تلاشتے تلاشتے اسے فیس بک پر دے مارتے ہیں۔
بس صاحب، پھر کچھ نہ پوچھیے۔ جن اشعار کو ہم بطورِ شاعر، فیس بک کے حوالے کرتے ہیں، اگلے ہی گھنٹے میں ہمارے وہی اشعار ہمیں ایک باذوق سامع سمجھ کر ایک نئے تخلص کے ساتھ ہمارے ذوق کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔ اور ایسی زخمی اور مجروح حالت میں کہ مرغِ بسمل بھی دیکھ لے تو اپنی بِسملیاں بھول جائے۔ کہیں مقطع سے حقیر کا تخلص ہی غائب، کہیں سے مقطع ہی سرے سے اُڑن چُھو، کہیں پر نظم کا عنوان ندارد، کہیں ’’عباس ثاقبؔ‘‘ کی جگہ ’’عظیم عباس‘‘جیسے عظیم اور نابغہ روزگار شعراء کے اسمائے گرامی، کہیں نظم شروع ہونے سے پہلے لکھی گئی تمہیدی سطروں میں سے ہماری ضمیریں ہی رفوچکر، کہیں بیچ بیچ سے ایک ایک مصرع اٹھا کر سرکاری اعداد و شمار کی طرح جوڑے گئے بے سروپاء اشعار، غرض، کچھ نہ کہیے۔ ایسے میں اپنے بڑے بھائی جان زاہد حسین صاحب کا ایک شعر یاد آ جاتا ہے جو انہوں نے اپنے ایسے ہی ایک دوست کی سخن چینیوں پر کہا تھا ؎
کہیں سے اُڑایا، کہیں سے چرایا
مرے دوست میں نے یہ شعر اِک بنایا
(کیونکہ ایسے لوگ شعر کہتے نہیں بلکہ بناتے ہیں۔)
اور پھر ہم غالبؔ ہی کے شعر میں تحریف کر کے سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں ؎
مت پوچھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے پیچھے
یہ دیکھ کہ کیا حال ہے میرا ترے آگے
جب سے ان فیس بکی ڈومنیوں سے واسطہ پڑا ہے، ہم بھی غالبؔ کی طرح خود کو ایک زندہ شاعر سمجھنے لگے ہیں۔
فروری میں ہم سے ایک نظم صادر ہوئی، جس کا عنوان تھا: *’’تُو ہے تاجر تجھے تبلیغ سے کیا رشتہ ہے؟‘‘*
چونکہ یہ نظم مذہبی خطباء کی ثروت پرستی پر گہری چوٹ تھی، اس لیے عوام کی آواز بن گئی اور دیکھتے دیکھتے فیس بک کی کئی دیواروں اور صفحات پر پھیل گئی۔ اکثر دیواروں اور صفحات پر حقیر کے متن اور تخلص میں بغیر کسی تبدیلی کے اسے چسپاں کیا گیا تھا، جو ہم جیسے بے ہنر فرد کے لیے بہت ہی عزت افزائی کی بات تھی اور اس کے لیے ہم ان سامعین و سامعات کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں جنہوں نے اس نظم کو پذیرائی بخشی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ صاحبان و صاحباتِ فن نے اس نظم پر اپنا ہاتھ صاف کیا۔ مقطع سے تخلص اڑایا، شروع کی تمہیدی سطور کو باہر پھینکا اور شاعر کا نام لکھے بغیر ہی کاپی پیسٹ کر کے پھیلانا شروع کر دیا۔ ایک محترمہ کی دیوار پر یہ نظم نظر آئی جو انہوں نے بے چارے شاعر کے نام کو لاتیں مار کے باہر نکال کر اپنی دیوار پر چپکائی تھی، تو ان کے رفقاء نے ان پر داد کے اتنے ڈونگرے برسائے کہ سقراط پر اس کی بیوی اتنے برتن نہ برساتی ہو گی۔ ایک رفیق نے انہیں داد دی کہ محترمہ کیا ہی اچھی ترجمانی کی ہے آپ نے عوام کے دلوں کی، تو انہوں نے جواباً انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بس صاحبان، خدا کی عطا ہے، کبھی غرور نہیں کیا۔ ان کی اس انکسارانہ ادا نے تو ایک لحظے کے لیے ہمیں بھی مبہوت کر کے رکھ دیا۔ ہم اپنی نظم کو ان کی نظم سمجھنے لگے اور داد دیتے دیتے رہ گئے۔
ایک صاحب نے ایک ایک مصرع چھوڑتے ہوئے ایک ایک مصرع اُچک کر ایسا پلنگ توڑ کشتہ تیار کر دیا تھا کہ پہلی نظر میں وہ نظم ہمیں چوہدری شجاعت صاحب کی تقریر لگنے لگی۔
یہی حشر ہماری دوسری نظم کا ہوا۔
حال ہی میں پارا چنار میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے بے گناہ شہریوں کی دھماکے میں المناک شہادت، اس کے بعد مظاہرین پر ایک فوجی افسر کی ظالمانہ کارروائی اور پھر ان مظلوموں کی طرف سے دھرنا دیے جانے کے بعد حکومت کی طرف سے بے اعتنائی اور امتیازی سلوک پر دل کھول اٹھا، تو اپنا دردِ دل ایک نظم میں بیان کیا، جس کا عنوان تھا:
*’’تُو شیعہ ہے، تُو کافر ہے‘‘*
نظم حالاتِ حاضرہ پر تھی اور پاکستانی اہل تشیع کے حالات کی برملا عکاسی کر رہی تھی، سو جہاں ایماندار فیس بکی رفقاء نے اسے شرف قبولیت بخشتے ہوئے اسے اپنی فیس بک دیواروں اور صفحات پر آویزاں کر کے حقیر کی اس آواز کو ملک کے کونے کونے تک پھیلایا اور ہمیں اپنا ممنونِ احسان کیا، وہیں دلّی کی ڈومنی کی طرح فیس بکی ڈومنیاں بھی متحرک ہو گئیں اور ہماری اس حقیر سی کاوش کو کہیں اپنے نام سے اور کہیں پر کسی بھی نام کے بغیر اپنے صفحات اور دیواروں پر چپکانے لگیں۔ چاہیں تو ان سب کے نام گنوا سکتے ہیں مگر حفظِ شخصیت کے لیے ان کے نام لینے سے کتراتے ہیں کیونکہ آخر ان ڈومنیوں کی بھی اپنے حلقۂ احباب میں کوئی نہ کوئی عزت ہو گی، سو جیسی بھی عزت ہے رہنے دیں۔
ہم تو غالبؔ کی طرح اسی بات پر خوش ہو کر جی لیں گے کہ جس شاعر کے کلام کو کوٹھے کی طوائفیں اور فیس بک کی ڈومنیاں گانے لگیں وہ کبھی نہیں مرتا۔
[معذرت خواہ ہیں کہ ایسے افراد کے لیے’’ڈومنی‘‘ سے زیادہ مہذب لفظ ہمارے ناقص ذہن میں نہ آ سکا۔]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[عباس ثاقبؔ]