خرید بک لینک

تشنہ لبی جاں تک آ پہنچی بحرِ طلب پایاب ہوا

وقت کے گہرے دریاؤں سے کون بھلا سیراب ہوا

وہم و گماں کی اس بستی میں فکر و نظر آوارہ ہوئے

ہستی ایک فسانہ ٹھہری، جیون ایک سراب ہوا

ماضی کے صحرا میں اپنی یادوں کا دفنایا ہے

پل پل جل کر راکھ ہوا اور لمحہ لمحہ خواب ہوا

اس ساحل پر بھولے بچے ریت کے گھر تعمیر کریں

تیری میری امیدوں کا شہر جہاں غرقاب ہوا

میں نے اپنی ہر حسرت کو دل کی زمیں پر بویا ہے

اشکوں سے سینچائی کی اور یہ گلشن شاداب ہوا

خوف کا سایہ، موت کا پہرہ، شہر میں وحشت پھیلی ہے

آنکھیں پتھر بن کر ٹوٹیں، خونِ جگر برفاب ہوا

اس ظالم سنسار میں، ثاقبؔ! ہمدردی کا بول نہیں

کنکر کنکر لہجوں میں اب یہ ہیرا نایاب ہوا

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

صفحه بندی