خرید بک لینک
اگر معلوم ہو جاتا

کہ تنہائی اذیت ناک ہوتی ہے

اکیلے ہوں

تو ماضی کی سبھی یادیں

لباسِ آتشیں پہنے

ہتھیلی پر پرانی حسرتوں کا رنگ پھیلائے ہوئے

اور پاؤں میں کانٹوں کی کتنی جھانجھریں باندھے

نظر کے سامنے جب رقص کرتی ہیں

تو آنکھیں خون روتی ہیں

اگر معلوم ہو جاتا

کہ تنہائی میں اپنے خواب بھی اپنے نہیں ہوتے

کسی کی دسترس کا ہر گھڑی احساس رہتا ہے

ذرا سی سرسراہٹ بھی کئی خود ساختہ خدشے جگاتی ہے

در و دیوار سے وحشت ٹپکتی ہے

یہ سنّاٹا ڈراتا ہے

اگر معلوم ہو جاتا

کہ تنہائی کے موسم سخت ہوتے ہیں

ہوا ٹھہری رہے

تب بھی بلا کا شور ہوتا ہے

کئی طوفان اٹھتے ہیں

بدن کو بارشوں میں آگ لگتی ہے

کڑکتی دوپہر میں سائے بھی دامن چھڑاتے ہیں

بہاروں میں مہکتے پھول محرومی کا طعنہ دے کے ہنستے ہیں

خزاں ویران ہوتی ہے

مگر اپنی سی لگتی ہے

اگر معلوم ہو جاتا

کہ تنہائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر معلوم ہی کب تھا ۔۔۔۔۔۔۔ !

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 22 شهريور 1395 ساعت: 5:54

صفحه بندی