خرید بک لینک

قسم تان سین کے برتن خراش راگوں کی!

اور قسم امیر خسرو کے طبلے[1] کی!

اس ر وسیاہ کو موسیقی کی اتنی ہی شدھ بدھ ہے جتنی ایک ماہر سیاستدان کو سچائی اور ایمانداری کی ہوتی ہے، مگر آلاتِ موسیقی کی کان پڑی آوازوں کی سوگند! ڈھول جیسا بدتمیز، بے ادب، واہیات اور حکومتی ترجمان کی طرح منہ پھٹ آلہ غنا، زندگی بھر دیکھا نہ سنا۔ جس طرح رشوت دینے اور لینے والا دونوں جنت سے خارج ہیں اسی طرح ڈھول بجانے اور سننے والا دونوں اس حالت سے خارج ہوتے ہیں جسے طب کی اصطلاح میں عادی حالت (Normal Condition) کہا جاتا ہے۔ اُدھر ڈھول کے پردے پر تھاپ پڑی، ادھر سننے والے کے کانوں کے پردے الامان و الحفیظ کا ورد کرتے ہوئے لرزنے لگے، فشارِ خون جون ایلیا کی طرح لڑکھڑانے لگا، دل کی دھڑکنیں نثری نظم کی سطروں کے جیسی بے ربط ہونے لگیں، دماغ پر ہتھوڑے برسنے لگے، دونوں پاؤں باری باری زمین کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگے، بدن کشش ثقل کے تمام قوانین کی تیا پانچا کرتے ہوئے خلاؤں کی طرف بھاگنے کے لیے پَر تولنے لگا اور اس بے لگام آلے کے موجد کو مہدی حسن کے سُروں میں صلواتیں سنانے لگا۔

ہر ایجاد، اپنے مُوجد کی ذہنی حالت کی عکاس ہوتی ہے۔ ڈھول کے بارے میں جب بھی غور کیا تو اس کے موجد کی ذہنی صحت پر شک مزید پختہ ہوتا چلا گیا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ بے چارا کس قدر ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی دباؤ کا شکار تھا کہ اپنے کتھارسس کا اہتمام کرتے کرتے دوسروں کی اذیت کا ہمیشہ کے لیے انصرام کر گیا۔

ڈھول کی تاریخ

بعض اوقات تاریخ پر بڑا غصہ آتا ہے کہ اس نے سکندر، یزید، حجاج، چنگیز اور ہلاکو جیسے ظالموں کو تو یاد رکھا مگر اس خونخوار اور اذیت ناک آلے کے موجد کا نام ہڑپ کر گئی۔ یہ روسیاہ ببانگِ ’’ڈھول‘‘ پورے یقین سے یہ کہنے کے لیے حلفا آمادہ ہےکہ اگر تاریخ کو اس کے بارے میں کوئی بھنک پڑے اور کسی صفحے پر اس ’’جلاد صفت‘‘ کا نام ظاہر ہو جائے تو سکندر یو نانی و ہمنوا یقیناً اس کی چلمیں بھریں گے، اس کے آگے گھنگرو باندھ کر ناچیں گے اور اس کی ایک ایک تھاپ پر تھَیا تھَیا کریں گے۔

ڈھول کے فوائد

پروفیسر لاف گزاف آبادانی کے حضور بیٹھے تھے کہ ڈھول کے فوائد گنوانے لگے:

’’ڈھول انسان کی وہ تخلیق ہے جس کے بے بہا فائدے ہیں۔‘‘

دست بستہ عرض کیا: ’’مثلاً!‘‘

دو انگلیوں میں جکڑے سگریٹ کی راکھ کو ٹوٹی ہوئی پرچ میں جھاڑ کر گھمبیر لہجے میں بولے:

’’اس کے لیے لازم ہے کہ پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو۔‘‘

حاضرینِ محفلِ سگریٹ نوشاں کے سارے حواس مجتمع ہو گئے۔گڑگڑا کر کہنے لگے: ’’فرمائیے حضور! وہ کون سا سوال ہے جس کے بعد یہ مشکل گتھی سلجھے گی؟‘‘

پوری محفل پر ایک فلسفیانہ قسم کی متکبرانہ نظر ڈالتے ہوئے پوچھنے لگے:

’’کیا تم بتا سکتے ہو کہ ریاضی دان اور فلسفی میں کیا فرق ہے؟‘‘

سب نے اپنی لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارے پاس فقط وہی علم ہے جو آپ نے ہمیں سکھایا ہے۔‘‘

فرمایا: ’’لیکن میں وہ چیزیں جانتا ہوں جو تم بھی نہیں جانتے۔‘‘

عرض گزار ہوئے: ’’تو اے فیض رسانِ علم، اے جاہلوں کے ملجأ و مأویٰ، اے ان پڑھوں کی پناہ گاہ! آپ ہی فرمائیے، ان دو عجوبوں میں کیا فرق ہے؟‘‘

کنکھار کر اپنا گلا صاف اور فضا کو مکدر کرتے ہوئے بولے:

’’ریاضی دان وہ ہوتا ہے جو موجودہ مسئلے کو حل کرتا ہے جبکہ فلسفی وہ ہوتا ہے جو ایک آسان اور حل شدہ مسئلے پر اپنی عقل کے گھوڑے دوڑا کر اسے اتنا الجھا دیتا ہے کہ وہ لا ینحل مسئلہ بن جاتا ہے۔‘‘

اتنا کہہ کر داد کی توقع میں سب پر ایک نگاہِ شاعرانہ ڈالی۔ سب عش عش کرتے ہوئے ریاضی دان کی صلاحیت پر رشک اور فلسفی کی ’’ہونہاریوں‘‘ پر شک کرنے لگے۔

اب ہم مشربوں نے سوال اٹھایا: ’’حضور! یہ تو سمجھ گئےلیکن اب اس سوال سے ڈھول کے فوائد کیسے سمجھے جائیں؟‘‘

سگریٹ کو ایک بار پھر ٹوٹی ہوئی پرچ میں جھاڑ پلائی، شیخ رشید والا کش لگایا اور منہ سے احمد فراز کی طرح دھوئیں کے مرغولےنکالتے ہوئے فرمانے لگے:

’’پس اے ہم مشربو! ڈھول بنانے اور بجانے والا بھی ایسے ہی ہیں۔ بنانے والے کم بخت، ۔۔۔۔ نے تو اپنا ذہنی جنون خارج کرنے کے لیے یہ آلہ بنا ڈالا مگر بجانے والا اسی آلے کو بجا بجا کر بہت سے صحیح و سالم ذہنوں کو پھر اسی جنون میں مبتلا کر دیتا ہے جس کا شکار ہو کر یہ آلہ بنایا گیا تھا۔‘‘

پروفیسر لاف گزاف آبادانی نے ’’کم بخت‘‘ کے بعد آنے والی خالی جگہ پر، ڈھول بنانے والے کے آباؤ اجداد کو جن الفاظ میں یاد کیا تھا، وہ قریب سے گزرنے والی ایک بارات میں بجنے والےڈھول کے شور ہی میں دب کر رہ گئے۔

عرض کیا: ’’سرکار! یہ فائدہ تو نہ ہوا، نقصان ہوا۔‘‘

فرمایا: ’’مورکھو! تم نہ سمجھے۔ اس تمثیل سے ڈھول کا یہ فائدہ ثابت ہوا کہ اگر اسے نہ بجایا جائے تو دنیا میں سکون ہی سکون ہو۔‘‘

سب سر پکڑ کر رہ گئے اور تمثیل اور ڈھول کے پہلے فائدے میں پائے جانے والے ربط میں غور و فکر کرتے کرتے ڈوبا ہی چاہتے تھے کہ پھر کسی ہم مشرب نے پروفیسر کے ٹھہرے ہوئے بحرِ علم میں ایک اور پتھر پھینکا:

’’تو حضور دوسرا فائدہ؟‘‘

’’دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اسے گڑے مردے اکھاڑنے کے لیے کام میں لایا جاتا ہے۔‘‘

فطین مریدوں نے پوچھا: ’’اس کی کوئی مثال؟‘‘

گویا ہوئے: ’’کسی عرس میں پیر صاحب کی قبر کے نزدیک کھڑے ہو کر ڈھول بجانے کا خیال شیطان کی قوت متخیلہ میں بھی نہ آیا ہو گا۔ جیسے ہی قبر پر ڈھول بجتا ہے، پیر صاحب مدفون و مقہور ، ڈھول کی تھاپ پر بے چارے شاہی استاد ابراہیم ذوقؔ کے مصرعے پیٹنے لگتے ہیں:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی ’’ڈھول بجایا‘‘ تو کدھر جائیں گے‘‘

اب پروفیسر لاف گزاف آبادانی نے اگلا نکتہ کھولا:

’’اے علم و فضل کے متوالو! ڈھول کا آخری فائدہ سنو!‘‘

سب ہمہ تن گوش۔

’’اگلے وقتوں میں جب مکان کچے تھےا ور لوگ سچے تھے، اسے مرگِ مفاجات والا حکمِ حاکم سنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، یوں کہ ایک ڈھبوس سا ڈھنڈورچی اسے گلے میں لٹکائے کوچہ ہائے یار و اغیار میں پیٹتا اور اعلان سناتا پھرتا۔ بعض اوقات سننے والے سمجھ نہ پاتے کہ ڈھول کی آواز میں دھنڈورچی کی آواز دب گئی یا اُس کی آواز میں اِس کی، گویا تُو من شدی من تُو شدم کے مراحل سلوک طے ہونے لگتے۔ ان دنوں کے ڈھول دور سے کچھ کچھ سہانے بھی ہوتے تھے، لیکن۔۔۔‘‘

’’لیکن کیا؟‘‘

’’لیکن آج کل اس کی کمی نیوز چینلز اور مولانا دشنام طراز اٹکوی ثُمَّ فیض آبادی پوری کر رہے ہیں۔ مولانا دشنام طراز فیض آبادی جب بجتے ہیں تو پرانے زمانے کا ڈھبوس ڈھندروچی ڈھب سے ڈھے بھی نہیں پاتا بلکہ آڑا ترچھا ہو کر گرتا ہے اور ڈھول کے ڈنکے اپنے منہ پر مارنے لگتا ہے کہ اس سے، کچھ دیر پہلے ہونے والی اذیت کا احساس کم ہو جاتا ہے۔‘‘

’’واہ، اے علم کے ساگر! تیرے علم کے قربان!‘‘

’’تو اے حکمت کے متلاشیو!ڈھول کا آخری فائدہ یہ ہے کہ اگر اسے مولانا دشنام طراز فیض آبادی کے درسِ اخلاق میں بجایا جائے تو ان کے منہ سے جھڑنے والے ست رنگے ’’گل ہائے دشنام‘‘ سے حاصل ہونے والی اذیت سے کافی حد تک افاقہ ہو سکتا ہے۔‘‘

*-*-*-*-*-*-*-*


[1] ۔ طبلے کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ کچھ مورخین اسے قبل مسیح کی ایجاد مانتے اور اس کے تانے بانے ویدوں اور اپنشدوں کے زمانوں کے ساتھ ملاتے ہیں، البتہ معروف یہی ہے کہ طبلہ امیر خسرو کی ایجاد ہے۔

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

صفحه بندی