کسی بے نور شب میں
کوئی جگنو ، کوئی تارا
مری تنہائیوں کا استعارہ
آنکھ کی دہلیز پر اترے
تو کیا معلوم؟
کتنے درد بانٹے
کتنی آنکھوں کو رلائے
کتنی پلکوں کو اذیت سے جگائے
تو یوں کرنا
کہ اس لمحے
وہی جگنو
وہی تارا
مری تنہائیوں کا استعارہ
لبوں میں قید کر لینا
مجھے اس خوف سے آزاد کر دینا
برچسب: خوف,خوفو,خوفي عليك,خوف و رجا,خوفو خفرع منقرع,خوفي عليك كلمات,خوف القطط من الخيار,خوف بالانجليزي,خوف اسامة المسلم pdf,خوف ياحبك حبيبي بلا,
نویسنده: بهراد دادخواه