خزاں کی رُت میں بھی ہر ایک شاخ پر کھِلے گُلاب دیکھنا
بڑا کٹھن سا ہو گیا ہے یار! تیرے بعد خواب دیکھنا
کئی دنوں سے اس نے اپنی میز پر یہ کام بھی بڑھا لیا
کتاب کھولنا اور اس کے بعد صرف انتساب دیکھنا
ہمارے ساتھ راستے میں بیٹھ بھی گئے تو کیا کرو گے تم؟
چھِنی ہوئی ردائیں اور کئی لُٹے ہوئے شباب دیکھنا
بجھے ہوئے دِیوں کی کربناک ساعتوں میں رات بھر کبھی
کسی کی آنکھ سے گرے ہوئے ہزاروں آفتاب دیکھنا
مسافرانِ عشق کے لبوں پہ ہر گھڑی ہے پیاس کا ہجوم
کہ دشتِ بے گیاہ کے نصیب میں کہاں سحاب دیکھنا
نظر الجھ کے رہ گئی ہے ریگزار کی چمکتی ریگ پر
کہاں کہاں پہ چشمۂ حیات اور کہاں سراب دیکھنا؟
شبِ فراق اور اس پہ ثاقبِؔ سیاہ بخت کے بغیر
نظر میں اضطراب اور کنارِ آب، ماہتاب دیکھنا!
برچسب:
نویسنده: بهراد دادخواه