خواہشوں کا مول نئیں، جذبات کا بیوپار نئیں
یہ ہماری جھونپڑی ہے مصر کا بازار نئیں
عشق کے آغاز میں حائل تکلف تھا مگر
اب ہمارے بیچ میں ایسی کوئی دیوار نئیں
ہجرتوں کا اک تسلسل ہے ہمارے پاؤں میں
ہر قدم پر اک سرائے ہے مگر گھربار نئیں
کیوں اُلجھتے جا رہے ہیں زاویے تصویر کے
اے مرے اچھے مصور! میں ترا شہکار نئیں؟!
فیصلہ تیرا سر آنکھوں پر جو تُو چاہے کہے
تُو ہمارا یار ہے اور یار کو انکار نئیں
مار دیتی ہے مجھے سادہ مزاجی ہر جگہ
شہر کے لوگوں میں رہتا ہوں مگر ہُشیار نئیں
ثاقباؔ! اس پر اُچٹتی سی نظر مت ڈالنا
یہ مری تازہ غزل ہے شام کا اخبار نئیں
برچسب:
نویسنده: بهراد دادخواه