
مرزا غالبؔ کا جب تک دیوان نہ چھپا تھا اور دلّی کے کم ہی لوگ اس نابغۂ روزگار کے فن سے واقف تھے، وہ کسی طوائف کے پڑوس میں واقع ایک کتب فروش میر صاحب کی دکان پر بیٹھے رہتے تھے۔ فن کے تو وہ بادشاہ تھے مگر دَھن (ثروت) کے معاملے میں خدائے رزّاق نے انہیں ہمارے ہم مرتبہ ہونے کے شرف سے نواز رکھتا تھا، سو وہ اپنے گھر اور جوئے کے تھڑوں کے بعد اکثر اسی دکان پر پائے جاتے تھے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے ان کے کانوں میں اپنی غزل گنگنائے جانے کی آواز پڑی۔ اس مُدھر آواز نے غالبؔ کے کانوں میں رس گھول دیا، تو انہوں نے ایک طوائف کے منہ سےاپنی غزل سن کر ایک جملہ کہا: ’’جس شاعر کی غزلیں کوٹھے کی طوائفیں گانے لگیں، وہ...
ادامه مطلب
کسی بے نور شب میں کوئی جگنو ، کوئی تارا مری تنہائیوں کا استعارہ آنکھ کی دہلیز پر اترے تو کیا معلوم؟ کتنے درد بانٹے کتنی آنکھوں کو رلائے کتنی پلکوں کو اذیت سے جگائے تو یوں کرنا کہ اس لمحے وہی جگنو وہی تارا مری تنہائیوں کا استعارہ لبوں میں قید کر لینا مجھے اس خوف سے آزاد کر دینا...
ادامه مطلب