
کسی بے نور شب میں کوئی جگنو ، کوئی تارا مری تنہائیوں کا استعارہ آنکھ کی دہلیز پر اترے تو کیا معلوم؟ کتنے درد بانٹے کتنی آنکھوں کو رلائے کتنی پلکوں کو اذیت سے جگائے تو یوں کرنا کہ اس لمحے وہی جگنو وہی تارا مری تنہائیوں کا استعارہ لبوں میں قید کر لینا مجھے اس خوف سے آزاد کر دینا...
ادامه مطلب